نئی دہلی،3؍مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) دہلی مسلم کش فساد میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 47 ہو گئی ہے- گورو تیغ بہادر اسپتال میں سے سب سے زیادہ 38 اموات ہوئیں - رام منوہر لوہیا ہسپتال میں 5، جبکہ جگ پرویش چندمیں ایک اور لو ک نائک ہسپتال میں 3 لوگوں نے دم توڑا- پولیس نے شمال مشرقی دہلی میں تشدد کو لے کر اب تک 334 ایف آئی آر درج کئے ہیں - اس میں 44 کیس آرمس ایکٹ کے ہیں، کل 57 لوگوں کی گرفتاری ہو چکی ہے- اس میں 33 لوگوں پر فسادات میں شامل ہونے کا الزام ہے،جبکہ 24 لوگ اتوار کو تشدد کی افواہ اڑانے کے الزام میں پکڑے گئے ہیں - اس کے علاوہ 800 سے زیادہ افراد کو حراست میں لے کر پولیس پوچھ گچھ کر رہی ہے-افواہوں کو دیکھتے ہوئے پولیس نے پیر کی صبح فساد زدہ علاقے میں فلیگ مارچ بھی کیا -
دریں اثنا، وزیر اعلیٰ کجریوال نے تشدد میں جان گنوانے والے انٹلی جنس بیورو (آئی بی) کے اہلکار انکت شرما کے خاندان کو ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے، انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت نے طے کیا ہے کہ آئی بی افسر انکت کے خاندان کو معاوضہ کے طور پر 1 کروڑ روپے دیئے جائیں گے- اس کے علاوہ خاندان کے ایک رکن کو دہلی حکومت کام دے گی -
خیال رہے کہ سی بی ایس ای کے امتحانات پیر سے طے شدہ پروگرام کے مطابق شروع ہو گئے ہیں، لیکن وہ بچے جو فساد کے شکار ہوئے، وہ ان امتحانات سے محروم ہوگئے،کیوں کہ ان کا ایڈمٹ کارڈ بھی فساد کی نذر ہوگیا، البتہ یہ بھی اطلاع ہے کہ دہلی کے فساد زدہ علاقوں کے طلبا بھی امتحان دے رہے ہیں -
دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر اسکولوں کے پاس بھاری پولیس نفری موجود ہے - کئی اسکولوں کے باہر پولیس اہلکاروں نے امیدواروں کو گلاب کے’پھول‘پیش کئے-
خیال رہے کہ فساد زدہ علاقے میں مبینہ نام نہاد امن اور ہم آہنگی قائم کرنے کے لئے دہلی اسمبلی نے 9 رکنی کمیٹی بنائی ہے-اس کی صدارت عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی سوربھ بھاردواج کریں گے -وہیں کل شام دہلی میں فساد کی افواہ پھیلنے کے بعد دہلی پولیس کے پی آر او ایم ایس رندھاوا نے کہا شرانگیز عنصر ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں، جن سے امن و امان میں رکاوٹ آئے، لوگوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ ان افواہوں پر توجہ نہ دیں، پوری دہلی میں قانون و انتظامیہ کنٹرول میں ہے- دہلی کے شہری اپنی ذمہ داری ادا کریں اور امن برقرار رکھنے میں مدد کریں -
خیال رہے کہ جامعہ نگر،سلطان پوری،ناگلوئی،جنک پوری مشرقی،جنک پوری مغربی، خیالا، ہری نگر، مدن پور کھادر سمیت کئی علاقوں میں دنگے کی افواہ سے عوام میں دہشت پھیل گئی -